المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ باب: نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد سے لے کر سورج طلوع ہونے تک ذکرِ الٰہی کی فضیلت کا بیان۔
( 23 ) حَدِيثٌ يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي صَلَاةِ الضُّحَى .
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي دَارِمٍ ، قَالَ : تَزَوَّجَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا امْرَأَةً مِنَّا ، فَسَكَنَ فِينَا ، فَصَنَعَ رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ طَعَامًا ، فَدَعَا الْحَيَّ وَدَعَا الْحَسَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : فَلَمْ أَرَ الْحَسَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَجَابَهُ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ الْحَسَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُشِيرُ إِلَى مَوْلًى لَهُ ، فَلَمَّا قَامَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَانْصَرَفَ جِئْتُ لِأَسْأَلَ مَوْلَاهُ عَمَّا بَطَّأَ بِهِ عَنِ الدَّعْوَةِ ، وَعَمَّا كَانَ يُشِيرُ إِلَيْهَا ، قَالَ : فَلَقِيتُ الْحَسَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَرَدَّ عَلَيَّ وَحَيَّانِي ، وَقَالَ : مَا جَاءَ بِكَ يَا فُلَانُ ؟ أَلَكَ حَاجَةٌ ؟ قُلْتُ : يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ : جِئْتُ لِأَسْأَلَ مَوْلَاكَ عَمَّا بَطَّأَ بِكَ عَنِ الدَّعْوَةِ ، وَعَمَّا كُنْتَ تُشِيرُ إِلَيْهِ ؟ قَالَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا أُحَدِّثُكَ ذَلِكَ : أَمَّا الَّذِي بَطَّأَنِي عَنْهَا ، فَكُنْتُ صَائِمًا ، وَأَمَّا الَّذِي كُنْتُ أُشِيرُ إِلَيْهِ فَكُنْتُ أَسْأَلُهُ : أَطَلَعَتِ الشَّمْسُ أَمْ لَا ؟ ثُمَّ حَدَّثَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ جَلَسَ يَذْكُرُ اللهَ تَعَالَى حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ : كَانَ لَهُ سِتْرًا أَوْ حِجَابًا مِنَ النَّارِ .بنو دارم کے ایک شخص سے روایت ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ہماری ایک خاتون سے نکاح کیا اور ہمارے ہاں قیام پذیر ہوئے، بستی کے ایک شخص نے کھانے کا اہتمام کیا اور اہل بستی کے ساتھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو بھی مدعو کیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے (فوری طور پر) دعوت قبول نہ فرمائی اور وہ اپنے ایک غلام کی طرف کچھ اشارہ کر رہے تھے۔ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ وہاں سے رخصت ہوئے تو میں ان کے غلام سے اس تاخیر اور اشارے کی وجہ دریافت کرنے کے لیے چلا، راستے میں میری ملاقات خود سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے ہو گئی، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا، خیر مقدم کیا اور دریافت فرمایا: ”اے فلاں! کیسے آنا ہوا؟ کیا تمہیں کوئی کام ہے؟“ میں نے عرض کی: اے فرزندِ رسول! میں آپ کے غلام سے اس تاخیر کے بارے میں پوچھنے آیا تھا جو آپ کو دعوت میں پیش آئی اور اس اشارے کے متعلق جو آپ کر رہے تھے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہیں خود ہی بتائے دیتا ہوں؛ جہاں تک تاخیر کا سبب ہے تو میں روزے سے تھا، اور جس بات کی طرف میں اشارہ کر رہا تھا تو میں اس سے یہ پوچھ رہا تھا کہ کیا سورج طلوع ہو چکا ہے یا نہیں؟“ پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے صبح کی نماز ادا کی، پھر سورج طلوع ہونے تک اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہا، تو یہ عمل اس کے لیے آگ سے آڑ یا حجاب بن جائے گا۔“
یہ روایت صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) کے باب میں بھی آئے گی، ان شاء اللہ۔ مسند مسدد: 543، اس کی سند میں حفص بن سلیمان قاری ضعیف ہے اور بنو دارم کا راوی مبہم ہے، تاہم فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک ذکرِ الٰہی کی فضیلت دیگر مستند روایات سے ثابت ہے۔