المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ باب: نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد سے لے کر سورج طلوع ہونے تک ذکرِ الٰہی کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مِقْدَامٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّهُ جَلَسَ إِلَى جَنْبِ إِيَاسِ بْنِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيِّ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ فِي مَسْجِدِهِمْ فَقَالَ : أَقْبِلْ عَلَيَّ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا حَازِمٍ : أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنْ أَبِي ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَأَنْ أُصَلِّيَ الصُّبْحَ ثُمَّ أَجْلِسَ فِي مَجْلِسِي أَذْكُرُ اللهَ تَعَالَى حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الشَّدِّ عَلَى جِيَادِ الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى ، مِنْ حِينِ أُصَلِّي الصُّبْحَ إِلَى أَنْ تَطْلُعَ .ابو حازم سے روایت ہے کہ وہ بنو ساعدہ کی مسجد میں ایاس بن سہل انصاری کے پہلو میں بیٹھے تو انہوں نے کہا: ”میری طرف متوجہ ہوں“، چنانچہ میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے کہا: ”اے ابو حازم! کیا میں تمہیں اپنے والد (سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ) کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشادِ گرامی نہ سناؤں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا صبح کی نماز ادا کرنا اور پھر اپنی اسی جگہ بیٹھے رہ کر سورج طلوع ہونے تک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں نمازِ فجر کے وقت سے لے کر طلوعِ آفتاب تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں عمدہ اور اصیل گھوڑوں پر سوار ہو کر (جہاد و قتال کے لیے) تگ و دو کروں۔“
اسے امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں ایاس بن سہل ہیں جن کے متعلق ائمہ کے مختلف اقوال ہیں، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اس مفہوم کی احادیث تقویت پاتی ہیں۔