المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْقَوْلِ عَقِبَ الصَّلَاةِ باب: نماز کے بعد پڑھے جانے والے کلمات و اذکار کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ نَبْهَانَ ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَلَاثٌ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ بِالْإِيمَانِ : دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ ، وَزُوِّجَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ مَا شَاءَ : مَنْ عَفَا عَنْ قَاتِلِهِ ، وَأَدَّى دَيْنًا خَفِيًّا ، وَقَرَأَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ ، قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَوْ إِحْدَاهُنَّ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْ إِحْدَاهُنَّ .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تین اعمال ایسے ہیں کہ جو شخص ایمان کے ساتھ انہیں لے کر (بارگاہِ الٰہی میں) حاضر ہوا، وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گا داخل ہو جائے گا اور بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے جس سے چاہے گا اس کا نکاح کر دیا جائے گا: (اول) وہ شخص جس نے اپنے قاتل کو معاف کر دیا، (دوم) وہ جس نے کسی پوشیدہ قرض کو ادا کر دیا، اور (سوم) وہ جس نے ہر فرض نماز کے بعد «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» ”کہہ دیجیے کہ وہ اللہ ایک ہے“ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] کی تلاوت کی۔“ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ان میں سے کوئی ایک عمل کرنے پر بھی یہی فضیلت ملے گی؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، ان میں سے کوئی ایک عمل کرنے پر بھی یہی اجر ملے گا۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند (542) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عمر بن نبہان نامی راوی ضعیف ہے۔