المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْقَوْلِ عَقِبَ الصَّلَاةِ باب: نماز کے بعد پڑھے جانے والے کلمات و اذکار کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : شَكَى فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ مَا فَضُلَ بِهِ أَغْنِيَاؤُهُمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ : هَؤُلَاءِ إِخْوَانُنَا آمَنُوا إِيمَانَنَا ، وَصَلَّوْا صَلَاتَنَا ، وَصَامُوا صِيَامَنَا ، وَلَهُمْ عَلَيْنَا فَضْلٌ فِي الْأَمْوَالِ : يَتَصَدَّقُونَ ، وَيَصِلُونَ الرَّحِمَ ، وَنَحْنُ فُقَرَاءُ لَا نَجِدُ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَيْءٍ إِنْ صَنَعْتُمُوهُ أَدْرَكْتُمْ فَضْلَهُمْ ؟ قُولُوا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ : اللهُ أَكْبَرُ إِحْدَى عَشْرَةَ مَرَّةً ، وَالْحَمْدُ لِلهِ إِحْدَى عَشْرَةَ مَرَّةً ، وَسُبْحَانَ اللهِ إِحْدَى عَشْرَةَ مَرَّةً ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ إِحْدَى عَشْرَةَ مَرَّةً تَدَارَكُوا مِثْلَ فَضْلِهِمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الْأَغْنِيَاءَ ، فَقَالُوا مِثْلَ مَا أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاؤُوهُ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِخْوَانُنَا يَقُولُونَ مِثْلَ مَا نَقُولُ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ، أَلَا أُبَشِّرُكُمْ يَا مَعْشَرَ الْفُقَرَاءِ ؟ إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُؤْمِنِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ .
541 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّكَنِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ فَذَكَرَهُ .
وَزَادَ : وَتَلَا مُوسَى : وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ .
وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَعِلَّتُهُ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ .
وَأَخْرَجَ ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ فِي الزُّهْدِ بَعْضَهُ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مسلمانوں کے فقراء نے ان فضائل کے متعلق (نبی کریم ﷺ سے) اپنی محرومی کا ذکر کیا جو ان کے مالداروں کو (مال کی کثرت کی وجہ سے) حاصل تھے، چنانچہ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! یہ ہمارے بھائی ہیں، یہ ہمارے ہی جیسا ایمان لائے، ہماری ہی طرح نمازیں ادا کیں اور ہماری ہی طرح روزے رکھے، لیکن انہیں اموال کی بدولت ہم پر یہ برتری حاصل ہے کہ وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں، جبکہ ہم نادار ہیں اور ان نیک کاموں کی مالی استطاعت نہیں رکھتے؟“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اس پر عمل کر لو تو ان کی فضیلت کو پا لو؟ تم ہر نماز کے بعد گیارہ مرتبہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“، گیارہ مرتبہ «الْحَمْدُ لِلهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“، گیارہ مرتبہ «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ پاک ہے“ اور گیارہ مرتبہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں“ پڑھا کرو، تم ان جیسی فضیلت حاصل کر لو گے۔“ پھر یہ بات مالداروں تک پہنچ گئی تو انہوں نے بھی ویسا ہی کرنا شروع کر دیا جیسا رسول اللہ ﷺ نے (فقراء کو) حکم دیا تھا۔ چنانچہ وہ (فقراء دوبارہ) آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ہمارے (مالدار) بھائی بھی وہی کچھ پڑھ رہے ہیں جو ہم پڑھتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ اے گروہِ فقراء! کیا میں تمہیں خوشخبری نہ دوں؟ یقیناً مؤمنوں کے فقراء اپنے مالداروں سے آدھا دن یعنی پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔“
امام بزار نے اس روایت کو ولید بن عمرو بن سکن، محمد بن زبرقان اور موسیٰ بن عبیدہ کے واسطے سے ذکر کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ موسیٰ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ﴾ [سورة الحج: 47]۔ امام بزار نے فرمایا کہ ہم اس روایت کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور اس کی علت موسیٰ بن عبیدہ (کا ضعیف ہونا) ہے۔ امام ابن ماجہ نے کتاب الزہد میں اس حدیث کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔