المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْقَوْلِ عَقِبَ الصَّلَاةِ باب: نماز کے بعد پڑھے جانے والے کلمات و اذکار کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَفْصٍ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اسْتَغْفَرَ اللهَ تَعَالَى فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَقَالَ : أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ ، وَإِنْ كَانَ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ .سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے ہر نماز کے بعد تین مرتبہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی اور یہ کلمات کہے: «أَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ”میں اس اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو ہمیشہ زندہ رہنے والا اور کائنات کا نظام سنبھالنے والا ہے، اور میں اسی کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں“، تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں، خواہ وہ میدانِ جنگ میں دشمن کے مقابلے سے فرار ہی کیوں نہ ہوا ہو۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کی سند میں حسن بن ذکوان اور سعید بن راشد کی وجہ سے کلام موجود ہے، البتہ استغفار کے ان کلمات کی فضیلت دیگر مستند احادیث میں بھی ثابت ہے۔