❮
❯
حدیث نمبر: 537
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّهَا جَاءَتْ بِعُكَّةِ سَمْنٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ : قَالَ : ثُمَّ عَلَّمَهَا أَنْ تَقُولَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا : سُبْحَانَ اللهِ عَشْرًا ، وَالْحَمْدُ لِلهِ عَشْرًا ، وَاللهُ أَكْبَرُ عَشْرًا .
ترجمہ

سیدہ ام مالک انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں گھی کا ایک برتن لے کر حاضر ہوئیں... (راوی کہتا ہے) پھر آپ نے پوری حدیث ذکر کی کہ آپ ﷺ نے انہیں یہ تعلیم ارشاد فرمائی کہ وہ ہر نماز کے بعد دس دس مرتبہ یہ کلمات ادا کریں: «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ پاک ہے“ دس مرتبہ، «وَالْحَمْدُ لِلهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ دس مرتبہ، اور «وَاللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ دس مرتبہ۔
اس روایت کو امام ابن ابی شیبہ نے اپنی ’المصنف‘ میں روایت کیا ہے؛ اس کی سند میں عطاء بن السائب کے حافظے کے تغیر اور یحییٰ بن جعدہ کے شیخ کے مبہم (نامعلوم) ہونے کی وجہ سے ضعف موجود ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / صفة الصلاة / حدیث: 537
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 122، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 14127، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1395»