المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْقَوْلِ عَقِبَ الصَّلَاةِ باب: نماز کے بعد پڑھے جانے والے کلمات و اذکار کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّهَا جَاءَتْ بِعُكَّةِ سَمْنٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ : قَالَ : ثُمَّ عَلَّمَهَا أَنْ تَقُولَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا : سُبْحَانَ اللهِ عَشْرًا ، وَالْحَمْدُ لِلهِ عَشْرًا ، وَاللهُ أَكْبَرُ عَشْرًا .سیدہ ام مالک انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں گھی کا ایک برتن لے کر حاضر ہوئیں... (راوی کہتا ہے) پھر آپ نے پوری حدیث ذکر کی کہ آپ ﷺ نے انہیں یہ تعلیم ارشاد فرمائی کہ وہ ہر نماز کے بعد دس دس مرتبہ یہ کلمات ادا کریں: «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ پاک ہے“ دس مرتبہ، «وَالْحَمْدُ لِلهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ دس مرتبہ، اور «وَاللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ دس مرتبہ۔
اس روایت کو امام ابن ابی شیبہ نے اپنی ’المصنف‘ میں روایت کیا ہے؛ اس کی سند میں عطاء بن السائب کے حافظے کے تغیر اور یحییٰ بن جعدہ کے شیخ کے مبہم (نامعلوم) ہونے کی وجہ سے ضعف موجود ہے۔