❮
❯
حدیث نمبر: 536
وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ : سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ... إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
536 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، ثَنَا أَبُو هَارُونَ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ يَقُولُ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ عِنْدَ انْصِرَافِهِ فَذَكَرَهُ .
536 \ 3 - قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ - لَا أَدْرِي بَعْدَ التَّسْلِيمِ أَوْ قَبْلَ التَّسْلِيمِ - فَذَكَرَهُ .
536 \ 4 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، أَوِ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ بِهِ .
536 \ 5 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ - هُوَ ابْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ - ثَنَا حَمَّادٌ - هُوَ ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ أَبِي هَارُونَ ، فَذَكَرَهُ نَحْوَ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ .
تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو هَارُونَ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
ترجمہ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے سلام پھیرتے تو یہ کلمات تلاوت فرماتے تھے: «سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ﴿١٨٠﴾ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ﴿١٨١﴾ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٨٢﴾» [سورة الصافات: 180-182] جس کا ترجمہ ہے: ”پاک ہے آپ کا رب، جو عزت و غلبہ کا مالک ہے، ان تمام باتوں سے جو یہ (مشرکین) بیان کرتے ہیں، اور سلامتی ہو تمام رسولوں پر، اور تمام تر تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“ ایک دوسری روایت میں ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے کہ ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک سے زائد مرتبہ اپنی نماز کے اختتام پر جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوتے تو یہی کلمات کہتے ہوئے سنا۔“ ایک اور طریق سے یہ روایت ہے کہ ”نبی کریم ﷺ ہر نماز کے آخر میں یہ پڑھا کرتے تھے“— البتہ راوی کو یہ شک ہے کہ آپ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد یہ کہتے تھے یا سلام سے پہلے—۔
اس روایت کو نقل کرنے میں ابو ہارون نامی راوی منفرد ہے اور وہ ضعیف (ناقابلِ اعتبار) ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / صفة الصلاة / حدیث: 536
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو هَارُونَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 3، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1390/1»