المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ التَّسْلِيمِ باب: نماز سے سلام پھیرنے کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : افْتِتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ .سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نماز کا آغاز پاکیزگی اور وضو ہے، اس کی تحریم (یعنی وہ عمل جس کے ذریعے نماز میں داخل ہوا جاتا ہے اور دنیاوی امور کو خود پر حرام کر لیا جاتا ہے) اللہ کی بڑائی بیان کرنا (تکبیر کہنا) ہے، اور اس کی تحلیل (یعنی وہ عمل جس سے نماز کی پابندی ختم ہوتی ہے اور دیگر کام حلال ہو جاتے ہیں) سلام پھیرنا ہے۔“
اس حدیث کو امام حارث نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں محمد بن عمر الواقدی موجود ہے جو کہ ضعیف راوی ہے، تاہم اس حدیث کا متن دیگر صحیح روایات سے تقویت یافتہ اور علمی طور پر مستند ہے۔