المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالذِّكْرِ فِيهِمَا باب: رکوع، سجدے اور ان میں کیے جانے والے ذکر کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ عَلَى سَبْعَةِ آرَابٍ : وَجْهِهِ ، وَكَفَّيْهِ ، وَرُكْبَتَيْهِ ، وَقَدَمَيْهِ ، فَمَا لَمْ يَصْنَعْ : فَقَدِ انْتَقَصَ .
511 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِهَذَا .
قُلْتُ : مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ هُوَ الْوَاقِدِيُّ : ضَعِيفٌ جِدًّا ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَتَفَرَّدْ بِهِ ، فَقَدْ :
511 \ 3 - قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ : أَبُو الْمُطَرِّفِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ : بِنَحْوِهِ .
تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ - وَهُوَ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ - وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ أَخْطَأَ فِي إِسْنَادِهِ ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. هَكَذَا أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ ، وَأَصْحَابُ السُّنَنِ .سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو وہ سات اعضاء پر سجدہ کرتا ہے: اپنا چہرہ، دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں؛ پس جب تک وہ ایسا نہیں کرتا (یعنی ان ساتوں اعضاء کو زمین پر نہیں ٹکاتا) تو یقیناً اس نے (اپنے سجدے کے کمال میں) کمی کی۔“
ابوبکر بن ابی شیبہ اور عبد بن حمید نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس کی سند میں موجود محمد بن عمر الواقدی نہایت ضعیف ہے، لیکن وہ اس روایت کی نقل میں تنہا نہیں ہے، بلکہ ابو یعلیٰ نے بھی محمد بن ابی الوزیر کے واسطے سے عبد اللہ بن جعفر سے اسی کی مانند روایت کیا ہے۔ عبد اللہ بن جعفر (جو علی بن المدینی کے والد ہیں) اس روایت کے نقل کرنے میں منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں، نیز انہوں نے اس کی سند بیان کرنے میں غلطی کی ہے، کیونکہ اسے عامر بن سعد نے درحقیقت سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اسی طرح صحیح سند کے ساتھ اسے امام مسلم اور اصحابِ سنن نے روایت کیا ہے۔