المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالذِّكْرِ فِيهِمَا باب: رکوع، سجدے اور ان میں کیے جانے والے ذکر کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عُثَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي عُثَيْمٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَتْ لَيْلَتِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْسَلَّ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَتَى بَعْضَ نِسَائِهِ ، فَخَرَجْتُ غَيْرَى ، فَإِذَا بِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا كَالثَّوْبِ الطَّرِيحِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَجَدَ لَكَ سَوَادِي ، وَخَيَالِي ، وَآمَنَ بِكَ فُؤَادِي ، هَذِهِ يَدِي ، وَمَا جَنَيْتُ عَلَى نَفْسِي ، يَا عَظِيمُ يُرْجَى لِكُلِّ عَظِيمٍ ، فَاغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِيمَ ، فَرَفَعَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ وَقَالَ : مَا أَخْرَجَكِ ؟ قُلْتُ : ظَنَنْتُ ظَنًّا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ، فَاسْتَغْفِرِي اللهَ تَعَالَى ، إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَتَانِي ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ الَّتِي سَمِعْتِ ، فَقُولِيهَا فِي سُجُودِكِ ، فَإِنَّهُ مَنْ قَالَهَا لَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی باری میرے ہاں تھی، آپ ﷺ چپکے سے بستر سے اٹھے اور باہر تشریف لے گئے، مجھے گمان ہوا کہ شاید آپ ﷺ اپنی کسی اور زوجہ محترمہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں، چنانچہ میں غیرت کے فطری جذبے کے تحت آپ ﷺ کے پیچھے نکلی، تو اچانک دیکھا کہ آپ ﷺ سجدے کی حالت میں کسی زمین پر پڑے ہوئے کپڑے کی طرح ساکت گرے ہوئے ہیں، میں نے آپ ﷺ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: «سَجَدَ لَكَ سَوَادِي، وَخَيَالِي، وَآمَنَ بِكَ فُؤَادِي، هَذِهِ يَدِي، وَمَا جَنَيْتُ عَلَى نَفْسِي، يَا عَظِيمُ يُرْجَى لِكُلِّ عَظِيمٍ، فَاغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِيمَ» ”اے اللہ! میرے وجود اور میرے باطن نے تیرے سامنے سجدہ کیا، اور میرا دل تجھ پر ایمان لایا، یہ میرا ہاتھ تیرے سامنے ہے اور جو کچھ میں نے اپنی جان پر گناہ و زیادتی کی میں اس کا معترف ہوں، اے وہ عظیم رب جس سے ہر بڑے معاملے میں خیر کی امید کی جاتی ہے، میرے بڑے گناہ کو معاف فرما دے“، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا سرِ مبارک اٹھایا اور دریافت فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے باہر نکالا؟“ میں نے عرض کیا: میں نے ایک گمان کر لیا تھا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں“ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾ [سورة الحجرات: 12]، ”لہٰذا تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہو، بے شک جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے ان کلمات کو کہنے کا حکم دیا جو تم نے سنے، پس تم بھی انہیں اپنے سجدے میں پڑھا کرو، کیونکہ جو بندہ بھی یہ کلمات کہتا ہے وہ اپنا سر سجدے سے نہیں اٹھاتا یہاں تک کہ اسے بخش دیا جاتا ہے“۔
مسند ابویعلیٰ: 510، اس کی سند میں عثمان بن عطا الخراسانی ضعیف راوی ہے اور اس کا اپنے والد سے سماع ثابت نہیں، تاہم دعا کے بعض اجزاء دیگر مستند روایات میں بھی ثابت ہیں۔