المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالذِّكْرِ فِيهِمَا باب: رکوع، سجدے اور ان میں کیے جانے والے ذکر کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا نَدْعُو قِيَامًا وَقُعُودًا ، وَنُسَبِّحُ رُكُوعًا وَسُجُودًا .
509 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ ، فَأَطَالَ ، فَرَأَيْتُ اضْطِرَابَ لِحْيَتِهِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لَهُ : أَكُنْتَ تَقْرَأُ ؟ قَالَ : إِنَّ عَامَّتَهُ تَسْبِيحٌ وَدُعَاءٌ ، ثُمَّ قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَذَكَرَهُ .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہم قیام اور قعود (کھڑے اور بیٹھے) کی حالت میں دعائیں مانگا کرتے تھے، اور رکوع و سجود کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کیا کرتے تھے۔“
اور امام احمد بن منیع کی روایت میں حمید طویل بیان کرتے ہیں کہ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے ہمیں شام کی دو نمازوں (ظہر یا عصر) میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی اور اسے کافی طویل کر دیا، میں نے (دورانِ نماز) ان کی داڑھی مبارک کے اضطراب (حرکت) کو دیکھا، چنانچہ جب وہ نماز مکمل کر کے فارغ ہوئے تو میں نے ان سے سوال کیا: ”کیا آپ (اس طویل قیام میں) تلاوت کر رہے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”بیشک اس کا اکثر و بیشتر حصہ تسبیح اور دعا پر مبنی ہوتا ہے“، پھر انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے واسطے سے مذکورہ بالا حدیث بیان فرمائی۔