❮
❯
حدیث نمبر: 51
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيِّبِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ وُفُودُ الْجِنِّ مِنَ الْجَزِيرَةِ ، فَأَقَامُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ بَدَا لَهُمْ فَأَرَادُوا الرُّجُوعَ إِلَى بِلَادِهِمْ ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يُزَوِّدَهُمْ فَقَالَ : مَا عِنْدِي مَا أُزَوِّدُكُمْ بِهِ ، وَلَكِنِ ادْنُوا لِكُلِّ عَظْمٍ مَرَرْتُمْ بِهِ فَهُوَ لَكُمْ لَحْمٌ عَرِيضٌ ، وَكُلُّ رَوْثٍ مَرَرْتُمْ بِهِ فَهُوَ لَكُمْ ثَمَرٌ ; فَلِذَلِكَ نَهَى أَنْ يُتَمَسَّحَ بِالْبَعْرِ وَالرِّمَّةِ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جزیرہ کے علاقے سے جنات کے وفود حاضر ہوئے اور وہ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں مقیم رہے، پھر جب انہوں نے اپنے وطن واپس جانے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ سے زادِ راہ کا تقاضا کیا، جس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس فی الوقت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو میں تمہیں بطور زادِ راہ مہیا کر سکوں، لیکن (تمہارے لیے یہ سہولت ہے کہ) تم جس ہڈی کے پاس سے بھی گزرو گے وہ تمہارے لیے وافر گوشت میں تبدیل ہو جائے گی اور جس لید کے پاس سے گزرو گے وہ تمہارے لیے پھل بن جائے گی“؛ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے لید اور بوسیدہ ہڈی سے استنجا کرنے سے منع فرمایا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 51
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف منكر. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»