المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الِاسْتِطَابَةِ باب: استنجاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 52
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ الْأَخْنَسِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ ، فَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ وتر (اپنی ذات و صفات میں واحد اور یکتا) ہے اور وہ وتر (طاق تعداد) کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا جب تم استجمار کرو (یعنی قضائے حاجت کے بعد پتھروں یا ڈھیلوں سے طہارت حاصل کرو) تو طاق تعداد اختیار کیا کرو۔“