المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الِاسْتِطَابَةِ باب: استنجاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 50
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِي ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ فَسَمِعْتُهُ وَهُمْ يَسْتَفْتُونَهُ عَنِ الِاسْتِنْجَاءِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ " . قَالُوا : كَيْفَ بِالْمَاءِ ؟ قَالَ : " هُوَ أَطْهَرُ وَأَطْهَرُ ".
50 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ - بِهِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں ”لیلة الجن“ (جنوں کی حاضری والی رات) رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھا، میں نے سنا کہ وہ جنات آپ ﷺ سے استنجا (طہارت و پاکیزگی) کے متعلق شرعی حکم دریافت کر رہے تھے، پس میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تین پتھر (کافی ہیں)۔“ انہوں نے عرض کیا کہ پانی کے استعمال کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ (پانی) تو بہت زیادہ پاکیزہ اور نہایت ستھرا کرنے والا ہے۔“