المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْخُشُوعِ باب: خشوع کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَزَالُ اللهُ تَعَالَى مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ فِي صَلَاتِهِ ، مَا لَمْ يَلْتَفِتْ فَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي حَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ ، إِنْ قَامَ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهُ وَتِدٌ .محمد بن ابراہیم بن حارث سے روایت ہے کہ انہیں ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ نماز کی حالت میں اپنے بندے کی جانب مسلسل متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ (بندہ اپنی توجہ کسی اور طرف) نہ موڑے (یعنی التفات نہ کرے)۔“ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ وہ بزرگ جنہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی، ان کا عالم یہ تھا کہ جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو (کمالِ سکون اور خشوع کی وجہ سے) گویا زمین میں گڑی ہوئی کوئی کیل یا ساکت کھونٹا معلوم ہوتے تھے۔
اس روایت کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عبد العزيز بن ابان اموی محدثین کے نزدیک متروک ہے، البتہ نماز میں التفات سے متعلق اصل مضمون دیگر معتبر شواہد و احادیث سے ثابت ہے۔