المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ وَمَنْ أَسْقَطَ الْقِرَاءَةَ عَنِ الْمَسْبُوقِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ خَاصَّةً باب: امام اور مقتدی پر قراءت کے وجوب اور مسبوق کی پہلی رکعت میں قراءت ساقط ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَفْقَ نَعْلَيْهِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ : كَيْفَ أَدْرَكْتَنَا ؟ قَالَ : سُجُودًا فَسَجَدْتُ ، قَالَ : كَذَلِكَ فَافْعَلْ ، وَلَا تَعْتَدُّوا بِالسَّجْدَةِ : مَا لَمْ تُدْرِكُوا الرَّكْعَةَ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْإِمَامَ قَائِمًا فَقُومُوا ، وَرَاكِعًا : فَارْكَعُوا ، وَسَاجِدًا : فَاسْجُدُوا ، وَجَالِسًا : فَاجْلِسُوا .
صَحِيحٌ .ایک انصاری بزرگ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے جوتوں کی چاپ سنی، پھر جب آپ ﷺ نے نماز کا سلام پھیرا تو اس سے دریافت فرمایا: ”تم نے ہمیں کس حالت میں پایا تھا؟“ اس نے عرض کیا: ”آپ سجدے کی حالت میں تھے تو میں نے بھی سجدہ کر لیا“، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اسی طرح کیا کرو، اور جب تک تم (رکوع کے ساتھ) مکمل رکعت نہ پا لو تب تک محض سجدے کو (رکعت کے طور پر) شمار نہ کرو؛ لہٰذا جب تم امام کو قیام کی حالت میں دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، جب رکوع میں دیکھو تو رکوع کرو، جب سجدے میں دیکھو تو سجدہ کرو اور جب قعدہ کی حالت میں دیکھو تو بیٹھ جایا کرو“۔
یہ حدیث صحیح ہے۔