المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ وَمَنْ أَسْقَطَ الْقِرَاءَةَ عَنِ الْمَسْبُوقِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ خَاصَّةً باب: امام اور مقتدی پر قراءت کے وجوب اور مسبوق کی پہلی رکعت میں قراءت ساقط ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 478
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : مَنْ أَدْرَكَ الْقَوْمَ رُكُوعًا : فَلَا يُعْتَدُّ بِتِلْكَ الرَّكْعَةِ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جماعت کو رکوع کی حالت میں پالے تو اس کی وہ رکعت (جس میں اس نے صرف رکوع پایا ہو) شمار نہیں کی جائے گی۔“
اس روایت کو امام بیہقی نے السنن الکبریٰ میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے؛ یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا موقوف قول (اثر) ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک رکوع پانے سے رکعت نہیں ملتی بلکہ قیام پانا ضروری ہے۔