المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ التَّأْمِينِ باب: آمین کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 477
قَالَ إِسْحَاقُ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، عَنْ هَارُونَ الْأَعْوَرِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أُمِّ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنَّهَا صَلَّتْ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقُولُ : مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ فَلَمَّا قَرَأَ وَلا الضَّالِّينَ قَالَ : آمِينَ ، حَتَّى سَمِعَتْهُ وَهِيَ فِي صَفِّ النِّسَاءِ .ترجمہ
ابن ام حصین اپنی والدہ سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز ادا کی، پس انہوں نے آپ ﷺ کو ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، پھر جب آپ ﷺ نے ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کی قرأت مکمل فرمائی تو آپ ﷺ نے «آمِينَ» ”آمین“ کہی، یہاں تک کہ انہوں نے اسے واضح طور پر سن لیا حالانکہ وہ (مسجد کے آخری حصے میں) عورتوں کی صف میں موجود تھیں۔
اس حدیث کی سند میں اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف راوی ہے، البتہ جہری نمازوں میں امام کا بلند آواز سے آمین کہنا دیگر کئی مستند و صحیح احادیث سے ثابت ہے۔