❮
❯
حدیث نمبر: 476
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا زَرْبِيٌّ مَوْلَى خَلَّادٍ ، ثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُعْطِيتُ ثَلَاثَ خِصَالٍ : صَلَاةً فِي الصُّفُوفِ ، وَأُعْطِيتُ السَّلَامَ ، وَهُوَ تَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأُعْطِيتُ آمِينَ ، وَلَمْ يُعْطَهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَعْطَاهَا هَارُونَ : فَإِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَدْعُو ، وَيُؤَمِّنُ هَارُونُ عَلَيْهِ السَّلَامُ .
قُلْتُ : أَخْرَجَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ فِي صَحِيحِهِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ، عَنْ زَرْبِيٍّ لَكِنْ قَالَ : ابْنُ بِنْتِ الْحُرِّ .
قُلْتُ : لَمْ يَثْبُتْ لِضَعْفِ زَرْبِيٍّ .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے تین ایسی خصلتیں عطا کی گئی ہیں: صفوں میں (باجماعت) نماز ادا کرنا، مجھے سلام کا تحفہ عطا کیا گیا ہے جو کہ اہل جنت کا باہمی دعائیہ کلمہ ہے، اور مجھے «آمِينَ» ”اے اللہ! قبول فرما“ عطا کیا گیا ہے، اور یہ مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کیا گیا بجز اس کے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے سیدنا ہارون علیہ السلام کو عطا فرمایا تھا؛ کیونکہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام دعا مانگتے تھے اور سیدنا ہارون علیہ السلام آمین کہتے تھے۔“
میں کہتا ہوں: اسے امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں ایک اور سند سے زربی ہی کے واسطے سے روایت کیا ہے، البتہ وہاں انہوں نے اسے ابنِ بنتِ الحر قرار دیا ہے۔
میں کہتا ہوں: زربی نامی راوی کے ضعیف ہونے کی وجہ سے یہ روایت پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / صفة الصلاة / حدیث: 476
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف
قال ابن حجر: لم يثبت لضعف زربي ، المطالب العالية: (4 / 77) برقم: (476) »
«أخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1586، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 476»