المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ وَالسَّبَبِ فِي تَخْفِيفِهَا باب: نماز میں قراءت اور اسے مختصر کرنے کے سبب کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا سُكَيْنٌ - هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثَنَا الْمُثَنَّى الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِي وَالِدَ السُّكَيْنِ - قَالَ : أَتَيْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقُلْتُ : أَخْبِرْنِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَّ أَهْلَ بَيْتِهِ ، فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ ، فَقَرَأَ هَمْسًا ، فَقَرَأَ بِالْمُرْسَلَاتِ ، وَالنَّازِعَاتِ ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ، وَنَحْوِهِمَا مِنَ السُّوَرِ .عبدالعزیز (سکین کے والد) سے روایت ہے کہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور التماس کی: ”مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز کی کیفیت کے بارے میں خبر دیجیے“، اس پر انہوں نے (تعلیم کی خاطر) اپنے اہل خانہ کی امامت فرمائی اور ہمیں ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھائیں، انہوں نے ان نمازوں میں نہایت پست آواز اور سرسراہٹ کے ساتھ تلاوت کی، پس انہوں نے سورہ ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا﴾ [سورة المرسلات: 1]، سورہ ﴿وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا﴾ [سورة النازعات: 1] اور سورہ ﴿عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ﴾ [سورة النبإ: 1] اور ان جیسی دیگر سورتوں کی تلاوت فرمائی۔
اسے امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند کے تمام رجال ثقہ ہیں سوائے سکین بن عبدالعزیز کے جن پر کلام ہے، تاہم مجموعی طور پر روایت حسن درجے کی ہے۔