المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ وَالسَّبَبِ فِي تَخْفِيفِهَا باب: نماز میں قراءت اور اسے مختصر کرنے کے سبب کا بیان۔
حدیث نمبر: 473
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، ثَنَا حَيْوَةُ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : إِنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ : حم : الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الدُّخَانُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے نمازِ مغرب میں سورہ ﴿حم﴾ [سورة الدخان: 1] کی تلاوت فرمائی، یعنی وہ سورت جس میں دھوئیں (دخان) کا تذکرہ موجود ہے“۔
اس روایت کی تخریج امام ابن ابی عمر العدنی نے اپنی مسند میں کی ہے، علمی طور پر اس کی سند میں انقطاع پایا جاتا ہے کیونکہ معاویہ بن عبداللہ کا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے براہِ راست سماع ثابت نہیں ہے۔