المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ وَالسَّبَبِ فِي تَخْفِيفِهَا باب: نماز میں قراءت اور اسے مختصر کرنے کے سبب کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ - فِيمَا يَعْلَمُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمُ الْفَجْرَ ، فَقَرَأَ بِهِمْ بِأَقْصَرِ سُورَتَيْنِ مِنَ الْقُرْآنِ ، أَوْ أَوْجَزَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، قَالَ لَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَوْ مُعَاذٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ صَلَاةً ، مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ مِثْلَهَا قَطُّ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَمَا سَمِعْتَ بُكَاءَ الصَّبِيِّ خَلْفِي فِي صَفِّ النِّسَاءِ ؟ أَرَدْتُ أَنْ أُفْرِغَ لَهُ أُمَّهُ .
471 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : صَلَّى بِنَا ، فَذَكَرَهُ .سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں قرآن کی دو مختصر ترین سورتیں تلاوت فرمائیں، یا (راوی کے شک کے مطابق) انتہائی اختصار کے ساتھ نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابو سعید خدری یا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہما نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو ایسی مختصر نماز پڑھاتے دیکھا ہے کہ اس سے قبل کبھی آپ کو اس طرح نماز پڑھاتے ہوئے نہیں دیکھا۔“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم نے میرے پیچھے عورتوں کی صفوں سے بچے کے رونے کی آواز نہیں سنی تھی؟ میں نے چاہا کہ نماز میں تخفیف کر کے اس کی ماں کو اس کے بچے کی دیکھ بھال کے لیے جلد فارغ کر دوں۔“
امام عبد بن حمید نے کہا کہ ہمیں ابو نعیم نے حدیث بیان کی، انہیں سفیان نے اور انہیں ابوہارون نے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر انہوں نے مذکورہ بالا حدیث کی مانند تذکرہ کیا۔