المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ وَالسَّبَبِ فِي تَخْفِيفِهَا باب: نماز میں قراءت اور اسے مختصر کرنے کے سبب کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَيَّانَ الْبَارِقِيِّ ، قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، أَوْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ : إِنِّي أُصَلِّي خَلْفَ فُلَانٍ ، وَإِنَّهُ يُطِيلُ الصَّلَاةَ ، فَقَالَ : إِنَّ رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتَا أَخَفَّ مِنْ رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ فُلَانٍ ، أَوْ كَانَتَا مِثْلَ صَلَاةِ فُلَانٍ ، أَوْ مِثْلَ رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ فُلَانٍ .حیان بارقی سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا گیا، یا ان سے ایک شخص نے عرض کیا کہ ”میں فلاں شخص کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں اور وہ نماز کو حد سے زیادہ طویل کر دیتا ہے،“ اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواباً ارشاد فرمایا: ”بے شک رسول اللہ ﷺ کی نماز کی دو رکعتیں اس فلاں شخص کی ایک رکعت سے بھی زیادہ ہلکی اور مختصر ہوا کرتی تھیں،“ یا (راوی کو شک ہے کہ انہوں نے یہ الفاظ کہے کہ) ”وہ (دو رکعتیں) فلاں شخص کی پوری نماز کی مانند ہوتی تھیں،“ یا ”وہ فلاں کی ایک رکعت کی مانند ہوتی تھیں۔“
اس حدیث کو امام ابوداؤد نے نقل کیا ہے اور یہ روایت سنداً صحیح ہے۔