المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ وَالسَّبَبِ فِي تَخْفِيفِهَا باب: نماز میں قراءت اور اسے مختصر کرنے کے سبب کا بیان۔
حدیث نمبر: 469
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، ثَنَا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ : قُلْتُ لِعِكْرِمَةَ : إِنِّي رُبَّمَا قَرَأْتُ فِي الْمَغْرِبِ : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ، وَإِنَّ نَاسًا يَعْتِبُونَ عَلَيَّ !؟ قَالَ : سُبْحَانَ اللهِ ! اقْرَأْ بِهِمَا ، فَإِنَّهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ .ترجمہ
حنظلہ سدوسی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عکرمہ رحمہ اللہ سے عرض کیا: ”میں بسا اوقات نمازِ مغرب میں ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] کی تلاوت کرتا ہوں، لیکن کچھ لوگ اس پر مجھے ملامت کرتے ہیں؟“ انہوں نے (تعجب کا اظہار کرتے ہوئے) فرمایا: «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ پاک ہے! تم ان دونوں سورتوں کی تلاوت ضرور کیا کرو، کیونکہ بے شک یہ دونوں قرآنِ کریم کا حصہ ہیں۔“
اس اثر کی سند حسن ہے۔