المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ وَالسَّبَبِ فِي تَخْفِيفِهَا باب: نماز میں قراءت اور اسے مختصر کرنے کے سبب کا بیان۔
حدیث نمبر: 466
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ عَاصِمٍ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : وَقَّتَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ أَقْرَأَ بِـ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، وَأَشْبَاهِهَا مِنَ الْقُرْآنِ .ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے (نمازوں میں قراءت کا) یہ معیار اور ضابطہ مقرر فرمایا کہ میں سورہ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور قرآن مجید کی اس جیسی دیگر (مختصر مفصل) سورتوں کی تلاوت کیا کروں۔“
اس حدیث کی سند جید ہے اور امام ابوبکر البزار رحمہ اللہ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔