المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ وَالسَّبَبِ فِي تَخْفِيفِهَا باب: نماز میں قراءت اور اسے مختصر کرنے کے سبب کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَقَدَ رَجُلًا ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : فَقَالَ الرَّجُلُ : مَرَرْتُ بِكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، وَأَنْتَ تُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، فَصَلَّيْتُ مَعَكَ ، وَأَنْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ : الْقَارِعَةَ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کو (اپنی مجلس یا نماز میں) غیر حاضر پاتے تو (اس کی خیریت دریافت فرماتے)... پھر راوی نے مکمل حدیث بیان کی، جس میں ہے کہ اس شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ آپ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، چنانچہ میں نے بھی آپ کے ساتھ مل کر نماز ادا کی، اور اس وقت آپ سورت ﴿الْقَارِعَةُ﴾ [سورة القارعة: 1-11] کی تلاوت فرما رہے تھے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عباد بن کثیر نامی راوی متروک اور ضعیف ہے، جس کی وجہ سے اس روایت کی سند فنی طور پر نہایت کمزور ہے۔