المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ وَالسَّبَبِ فِي تَخْفِيفِهَا باب: نماز میں قراءت اور اسے مختصر کرنے کے سبب کا بیان۔
حدیث نمبر: 467
حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْأَرْبَعِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ .ترجمہ
سیدنا ابو مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم ﷺ ظہر اور عصر کی چاروں رکعتوں میں (سورہ فاتحہ کے ساتھ دیگر سورتوں کی) قرات فرمایا کرتے تھے۔“
اس حدیث کی سند میں لیث بن ابی سلیم اور شہر بن حوشب راوی موجود ہیں جو کہ علمی طور پر کلام سے خالی نہیں، تاہم ظہر اور عصر کی تمام رکعتوں میں قرات کرنے کا مسنون ہونا دیگر صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے۔