❮
❯
حدیث نمبر: 464
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا شَاذَانُ : الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : ( قَامَ رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ - فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ . فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ ، قَالَ : مَنِ الْقَائِلُ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا ، أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا ؟ ) .
ترجمہ

سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز کی حالت میں کھڑا ہوا اور اس نے یہ کلمات کہے: «الْحَمْدُ لِلهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ایسی تعریف جو بکثرت، پاکیزہ اور برکت والی ہو۔“ پھر جب نبی کریم ﷺ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کلمات کہنے والا کون ہے؟“ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: ”میں ہوں۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ان کلمات کی طرف لپک رہے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان میں سے کون ان کو (سب سے پہلے) لکھے۔“
اس حدیث کی سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف ہے، البتہ اس مفہوم کی روایات صحیح بخاری (799) اور صحیح مسلم (600) میں موجود ہیں جس سے اس کی اصل ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / صفة الصلاة / حدیث: 464
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده شديد الضعف. »
«أخرجه سنن النسائي برقم: 901، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 763، وأخرجه مسند أحمد برقم: 12548، وأخرجه فتح الباري برقم: 750، 766، وأخرجه مسند البزار برقم: 3819، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 466، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 5623، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1247/4، 1251»