المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ مَتَى يُكَبِّرُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى باب: تکبیرِ تحریمہ کہنے کے وقت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا شَاذَانُ : الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : ( قَامَ رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ - فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ . فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ ، قَالَ : مَنِ الْقَائِلُ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا ، أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا ؟ ) .سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز کی حالت میں کھڑا ہوا اور اس نے یہ کلمات کہے: «الْحَمْدُ لِلهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ایسی تعریف جو بکثرت، پاکیزہ اور برکت والی ہو۔“ پھر جب نبی کریم ﷺ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کلمات کہنے والا کون ہے؟“ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: ”میں ہوں۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ان کلمات کی طرف لپک رہے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان میں سے کون ان کو (سب سے پہلے) لکھے۔“
اس حدیث کی سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف ہے، البتہ اس مفہوم کی روایات صحیح بخاری (799) اور صحیح مسلم (600) میں موجود ہیں جس سے اس کی اصل ثابت ہے۔