المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ مَتَى يُكَبِّرُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى باب: تکبیرِ تحریمہ کہنے کے وقت کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : أَتَى رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ : فَقَالَ - حِينَ وَصَلَ إِلَى الصَّفِّ - : اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، وَالْحَمْدُ لِلهِ كَثِيرًا ، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ : مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَاتِ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا أَرَدْتُ بِهِنَّ إِلَّا الْخَيْرَ ، فَقَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ لَهُنَّ .
قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَمَا تَرَكْتُهُنَّ بَعْدَمَا سَمِعْتُهُنَّ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص (مسجد میں) حاضر ہوا جبکہ نبی کریم ﷺ نماز ادا فرما رہے تھے، اس شخص نے صف میں پہنچتے ہی یہ کلمات کہے: «اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ”اللہ بہت بڑا ہے کمال درجے کی بڑائی والا، تمام تر تعریفیں کثرت کے ساتھ اللہ ہی کے لیے ہیں، اور میں صبح و شام اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں۔“ پس جب نبی کریم ﷺ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کلمات کہنے والا صاحبِ معاملہ کون ہے؟“ اس شخص نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں ہوں، اور ان کلمات کی ادائیگی سے میرا ارادہ محض خیر و بھلائی ہی تھا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے دیکھا کہ ان کلمات کی (قبولیت کی) خاطر آسمان کے دروازے کھول دیے گئے۔“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے (نبی کریم ﷺ سے ان کلمات کی فضیلت) سنی ہے، میں نے انہیں کبھی نہیں چھوڑا۔