المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ مَتَى يُكَبِّرُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى باب: تکبیرِ تحریمہ کہنے کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 462
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ سَيْفٍ الْعَنْسِيُّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ غُضَيْفٍ ، أَوْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ الْكِنْدِيِّ ، - شَكَّ مُعَاوِيَةُ - قَالَ : مَهْمَا نَسِيتُ : لَمْ أَنْسَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى - يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ - .ترجمہ
سیدنا حارث بن غضیف یا غضیف بن حارث الکندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (راویِ حدیث معاویہ بن صالح کو ان کے نام کی ترتیب میں شک ہوا ہے) کہ انہوں نے فرمایا: ”میں زندگی میں خواہ کچھ بھی بھول جاؤں، لیکن یہ بات ہرگز نہیں بھول سکتا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا،“ یعنی آپ ﷺ نماز کی حالت میں اس طرح ہاتھ باندھتے تھے۔
اس روایت کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی "المصنف" میں روایت کیا ہے اور اس کی سند کے تمام راوی ثقہ اور معتبر ہیں، جس سے یہ روایت استدلال کے لیے بالکل صحیح اور مستند قرار پاتی ہے۔