المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
باب (أحاديث 4621–4626) باب: (احادیث 4621 تا 4626)
حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، شَكَّ زُهَيْرٌ : مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا يُرَدُّونَ إِلَى سِتِّينَ سَنَةً ، لَا يَزِيدُونَ عَلَيْهَا أَبَدًا فِي الْجَنَّةِ ، وَكَذَلِكَ أَهْلُ النَّارِ .سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا (راویِ حدیث زہیر کو اس کے الفاظ یا مرفوع ہونے میں شک ہے): ”دنیا کے لوگوں میں سے جو شخص بھی فوت ہوتا ہے، خواہ وہ بچپن میں مرا ہو یا بڑھاپے میں، ان سب کو (قیامت کے دن) ساٹھ سال کی عمر میں لوٹا دیا جائے گا، جنت میں وہ کبھی اس عمر سے زیادہ نہیں بڑھیں گے، اور اسی طرح جہنمیوں کا حال بھی یہی ہو گا۔“
اس حدیث کی سند میں ابن لہیعہ اور دراج بن سمعان جیسے راوی موجود ہیں، جن کے ضعف کی وجہ سے یہ روایت علمی طور پر ضعیف شمار کی جاتی ہے، نیز مستند اور صحیح احادیث میں اہل جنت کی عمر تینتیس سال بیان کی گئی ہے۔