❮
❯
حدیث نمبر: 4625
حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، شَكَّ زُهَيْرٌ : مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا يُرَدُّونَ إِلَى سِتِّينَ سَنَةً ، لَا يَزِيدُونَ عَلَيْهَا أَبَدًا فِي الْجَنَّةِ ، وَكَذَلِكَ أَهْلُ النَّارِ .
ترجمہ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا (راویِ حدیث زہیر کو اس کے الفاظ یا مرفوع ہونے میں شک ہے): ”دنیا کے لوگوں میں سے جو شخص بھی فوت ہوتا ہے، خواہ وہ بچپن میں مرا ہو یا بڑھاپے میں، ان سب کو (قیامت کے دن) ساٹھ سال کی عمر میں لوٹا دیا جائے گا، جنت میں وہ کبھی اس عمر سے زیادہ نہیں بڑھیں گے، اور اسی طرح جہنمیوں کا حال بھی یہی ہو گا۔“
اس حدیث کی سند میں ابن لہیعہ اور دراج بن سمعان جیسے راوی موجود ہیں، جن کے ضعف کی وجہ سے یہ روایت علمی طور پر ضعیف شمار کی جاتی ہے، نیز مستند اور صحیح احادیث میں اہل جنت کی عمر تینتیس سال بیان کی گئی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4625
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 18659، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7826، 7942»