المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
باب (أحاديث 4621–4626) باب: (احادیث 4621 تا 4626)
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْكَلَاعِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِيكَرِبَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا يَزِيدَ ، إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَمْ تَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سُبْحَانَ اللهِ ، وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ وَأَنَا أَمْشِي مَعَ عَمِّي ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي هَذِهِ ، فَقَالَ لِعَمِّي : أَتَرَى هَذَا يَذْكُرُ أُمَّهُ أَوْ أَبَاهُ ؟ فَقُلْنَا لَهُ : حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يُحْشَرُ السِّقْطُ إِلَى الشَّيْخِ الْفَانِي أَبْنَاءَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ فِي خَلْقِآدَمَ ، وَحُسْنِ يُوسُفَ ، وَقَلْبِ أَيُّوبَ ، جُرْدًا مُكَحَّلِينَ ، قُلْتُ : فَكَيْفَ بِالْكَافِرِ ؟ قَالَ : يُعَظَّمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَصِيرَ جِلْدُهُ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا ، وَحَتَّى يَصِيرَ كُلُّ نَابٍ مِنْ أَنْيَابِهِ مِثْلَ أُحُدٍ .ابویحییٰ الکلاعی بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے ابویزید! لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کی زیارت نہیں فرمائی، انہوں نے (حیرت و تعجب سے) کہا: ”سبحان اللہ! اللہ کی قسم، میں نے یقیناً آپ ﷺ کو دیکھا ہے، اس وقت میں اپنے چچا کے ہمراہ چل رہا تھا، تو آپ ﷺ نے میرے اس کان کو (محبت سے) پکڑا اور میرے چچا سے دریافت فرمایا: ”کیا تم خیال کرتے ہو کہ یہ (بچہ بڑا ہو کر) اپنی ماں یا اپنے باپ کو یاد رکھے گا؟“ ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم ﷺ سے سنی ہو، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”ناقص الخلقت بچہ (جو وضع حمل سے پہلے گر جائے) ہو یا انتہائی ضعیف بوڑھا، سب کو (قیامت کے دن) تینتیس سال کی عمر کے جوانوں کی صورت میں اٹھایا جائے گا، وہ سیدنا آدم علیہ السلام کی (طویل القامت) تخلیق، سیدنا یوسف علیہ السلام جیسے حسن و جمال اور سیدنا ایوب علیہ السلام جیسے (صابر و شاکر) دل کے حامل ہوں گے، ان کے جسم (فطری طور پر) بالوں سے پاک اور آنکھیں سرمگیں ہوں گی“، میں نے دریافت کیا: تو پھر کافر کا کیا معاملہ ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: ”کافر کے جسم کو جہنم کی آگ کے لیے اتنا عظیم بنا دیا جائے گا کہ اس کی کھال (کی موٹائی) چالیس ہاتھ ہو جائے گی اور اس کی داڑھوں میں سے ہر ایک داڑھ احد پہاڑ کی مانند (بڑی) ہو جائے گی“۔
مسند ابویعلیٰ: 4626، اس کی سند میں یزید بن سنان الرہاوی ضعیف راوی ہے، تاہم اس حدیث کے بعض اجزاء دیگر صحیح شواہد سے ثابت ہیں۔