المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
باب (أحاديث 4621–4626) باب: (احادیث 4621 تا 4626)
ثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، ثَنَا مُعْتَمِرٌ ، ثَنَا أَبِي ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنْ أَبِيهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى زَيْدٍ يَعُودُهُ مِنْ مَرَضٍ كَانَ بِهِ ، فَقَالَ : لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْ مَرَضِكَ هَذَا بَأْسٌ ، وَلَكِنْ كَيْفَ بِكَ إِذَا عُمِّرْتَ بَعْدِي فَعَمِيتَ ؟ قَالَ : إِذًا أَحْتَسِبُ وَأَصْبِرُ ، قَالَ : إِذًا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، قَالَ : فَعَمِيَ بَعْدَمَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ رَدَّ اللهُ عَلَيْهِ بَصَرَهُ ، ثُمَّ مَاتَ .سیدہ انیسہ بنت زید بن ارقم رضی اللہ عنہا اپنے والد (سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے جب وہ ایک مرض میں مبتلا تھے، تو آپ ﷺ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”«لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْ مَرَضِكَ هَذَا بَأْسٌ» ”تمہاری اس بیماری میں کوئی پریشانی یا فکر کی بات نہیں ہے“، لیکن تمہارا کیا حال ہوگا جب تم میرے بعد طویل عمر پاؤ گے اور پھر تمہاری بینائی چلی جائے گی؟“ انہوں نے عرض کیا: ”ایسی صورت میں، میں اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھوں گا اور صبر کروں گا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو تم بلا حساب و کتاب جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد وہ واقعی نابینا ہو گئے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی بصارت انہیں واپس لوٹا دی اور پھر اس کے بعد وہ وفات پا گئے۔
اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے، علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے، نیز اس کی اصل صحیح بخاری میں بھی موجود ہے۔