المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
باب (أحاديث 4621–4626) باب: (احادیث 4621 تا 4626)
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ ، ثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا ، قَالُوا : زِدْنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ : لِكُلِّ رَجُلٍ سَبْعُونَ أَلْفًا ، قَالُوا : زِدْنَا يَا رَسُولَ اللهِ ، وَكَانَ عَلَى كَثِيبٍ فَحَثَا بِيَدِهِ ، قَالُوا : زِدْنَا يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذِهِ ، فَحَثَا بِيَدَيْهِ ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللهِ ، أَبْعَدَ اللهُ مَنْ دَخَلَ النَّارَ بَعْدَ هَذَا .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار افراد (بغیر حساب و کتاب) جنت میں داخل ہوں گے۔“ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے اس تعداد میں مزید اضافہ فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے ہر ایک شخص کے ساتھ مزید ستر ہزار (جنت میں جائیں گے)۔“ صحابہ نے پھر التجا کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے مزید اضافہ فرمائیے۔ اس وقت آپ ﷺ ریت کے ایک ٹیلے پر تشریف فرما تھے، پس آپ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ سے (ریت کی) لپ بھری (اور اسے گرا کر کثرت کا اشارہ کیا)۔ صحابہ نے پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں مزید عطا فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اتنا اور“، اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے (ریت کی) لپ بھر کر اشارہ فرمایا۔ تب صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اس (قدر وسیع رحمت اور کثیر تعداد کی بخشش) کے بعد بھی جو شخص جہنم میں داخل ہوا، تو «أَبْعَدَ اللهُ مَنْ دَخَلَ النَّارَ بَعْدَ هَذَا» ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو اپنی رحمت سے دور ہی رکھے (یعنی وہ تو انتہا درجے کا محروم اور بدنصیب ہو گا)۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔