المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
باب (أحاديث 4621–4626) باب: (احادیث 4621 تا 4626)
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثَنَا عِيسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ عُكَّاشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، ادْعُ اللهَ تَعَالَى أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ فَقَالَ رَجُلٌ آخَرُ : ادْعُ اللهَ تَعَالَى أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ، ثُمَّ سَكَتَ الْقَوْمُ سَاعَةً ، وَتَحَدَّثُوا ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَوْ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْهُمْ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَبَقَكُمْ عُكَّاشَةُ وَصَاحِبُهُ ، إِنَّكُمْ لَوْ قُلْتُمْ لَقُلْتُ ، وَلَوْ قُلْتُ لَوَجَبَتْ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ارشاد فرمایا: ”میری امت کے ستر ہزار افراد ایسے ہوں گے جو کسی حساب و کتاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔“ یہ سن کر سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی انہی خوش نصیبوں میں شامل فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» ”اے اللہ! اسے ان میں شامل فرما دے۔“ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بھی دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» ”اے اللہ! اسے ان میں شامل فرما دے۔“ اس کے بعد وہاں موجود لوگ کچھ دیر خاموش رہے اور پھر آپس میں گفتگو کرنے لگے، بعض نے کہا: کاش ہم بھی عرض کر دیتے کہ اے اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہمیں بھی ان میں شامل کر دے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عکاشہ اور ان کے ساتھی تم سے سبقت لے گئے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اگر تم (بر وقت) کہہ دیتے تو میں ضرور دعا کر دیتا، اور اگر میں دعا کر دیتا تو یہ (قبولیت) واجب ہو جاتی۔“
اس روایت کی سند میں محمد بن ابی لیلیٰ اپنے حافظے کی وجہ سے محلِ کلام ہیں، تاہم ستر ہزار افراد کے بلا حساب جنت میں داخل ہونے کی اصل فضیلت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مختلف سندوں کے ساتھ ثابت اور صحیح ہے۔