المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
باب (أحاديث 4621–4626) باب: (احادیث 4621 تا 4626)
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَتِيكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : جِئْتُ أَزُورُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، فَإِذَا هُوَ يُوحَى إِلَيْهِ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ : نَاوِلِينِي رِدَائِي ، فَخَرَجَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا فِيهِ قَوْمٌ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ قَوْمٌ غَيْرُهُمْ ، فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ ، حَتَّى إِذَا قَضَى الْمُذَكِّرُ تَذْكِرَتَهُ قَرَأَ : تَنْزِيلَ السَّجْدَةَ ، فَعَجَزَ النَّاسُ عَنِ الْمَسْجِدِ ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى أَهْلِهَا : احْضُرُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ أَرَهُ ، قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَطَلْتَ السُّجُودَ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَجَدْتُ شُكْرًا لِرَبِّي فِيمَا أَعْطَانِي مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أُمَّتُكَ أَكْثَرُ وَأَطْيَبُ فَاسْتَكْثِرْ لَهُمْ ، حَتَّى قَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَدِ اسْتَوْعَبَتْكَ أُمَّتُكَ .سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زیارت کی غرض سے حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے، پھر جب وحی کی شدت اور بوجھ کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”میرا لبادہ مجھے پکڑا دو۔“ پس آپ ﷺ باہر تشریف لے گئے اور مسجد میں داخل ہوئے، وہاں کچھ لوگ موجود تھے اور ان کے علاوہ مسجد میں کوئی دوسرا نہ تھا، آپ ﷺ ان لوگوں کے ایک گوشے میں تشریف فرما ہوئے یہاں تک کہ جب وعظ و نصیحت کرنے والے نے اپنی گفتگو مکمل کر لی تو آپ ﷺ نے سورہ السجدہ ﴿تَنْزِيلُ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة السجدة: 2] کی تلاوت فرمائی، تو لوگ مسجد میں (ہجوم اور تاثر کی وجہ سے) گنجائش نہ پا سکے، تب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں کو پیغام بھیجا کہ: ”رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ، کیونکہ میں نے آپ ﷺ میں ایک ایسی کیفیت اور بات دیکھی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے (طویل سجدے کے بعد) اپنا سرِ مبارک اٹھایا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے سجدہ بہت طویل فرما دیا؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اپنے رب کے حضور اس نعمت پر شکرانہ ادا کرنے کے لیے سجدہ کیا ہے جو اس نے مجھے میری امت کے بارے میں عطا فرمائی ہے کہ ان میں سے ستر ہزار لوگ (بغیر حساب و کتاب) جنت میں داخل ہوں گے۔“ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! آپ کی امت تو اس سے کہیں زیادہ اور پاکیزہ ہے، لہٰذا ان کے لیے مزید کثرت کی طلب فرمائیے“، یہاں تک کہ انہوں نے دو یا تین مرتبہ یہی عرض کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میرے باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کی امت نے تو آپ کو تھکا دیا ہے (یعنی آپ نے ان کے لیے بہت زیادہ جدوجہد اور دعا فرما لی ہے)۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے المصنف میں کی ہے، اس کی سند میں عبد اللہ بن عتیک نامی راوی ہیں جن پر محدثین نے جرح کی ہے، تاہم ستر ہزار افراد کے بغیر حساب جنت میں جانے کی اصل بات صحیحین کی مستند روایات سے ثابت ہے۔