❮
❯
حدیث نمبر: 4619
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ النِّيلِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَسْفَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : رَجُلٌ يَدْخُلُ مِنْ بَابِ الْجَنَّةِ ، فَيَتَلَقَّاهُ غِلْمَانُهُ ، فَيَقُولُونَ : مَرْحَبًا بِكَ يَا سَيِّدَنَا ، قَدْ آنَ لَكَ أَنْ تَؤُوبَ ، قَالَ : فَتُمَدُّ لَهُ الزَّرَابِيُّ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ، فَيَرَى الْجِنَانَ ، فَيَقُولُ : لِمَنْ مَا هَاهُنَا ؟ فَيُقَالُ : لَكَ ، حَتَّى إِذَا انْتَهَى رُفِعَتْ لَهُ يَاقُوتَةٌ حَمْرَاءُ أَوْ زُمُرُّدَةٌ خَضْرَاءُ لَهَا سَبْعُونَ شِعْبًا ، فِي كُلِّ شِعْبٍ سَبْعُونَ غُرْفَةً ، فِي كُلِّ غُرْفَةٍ سَبْعُونَ بَابًا ، فَيُقَالُ لَهُ : اقْرَأْ وَارْقَ ، قَالَ : فَيَرْتَقِي ، حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى سَرِيرِ مُلْكِهِ ، اتَّكَأَ عَلَيْهِ ، سَعَتُهُ مِيلٌ فِي مِيلٍ ، وَلَهُ عَنْهُ فُضُولٌ ، يُسْعَى إِلَيْهِ بِسَبْعِينَ أَلْفَ صَحْفَةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، لَيْسَ فِيهَا صَحْفَةٌ مِنْ لَوْنِ صَاحِبَتِهَا ، فَيَجِدُ لَذَّةَ آخِرِهَا كَمَا يَجِدُ لَذَّةَ أَوَّلِهَا ، ثُمَّ يُسْعَى عَلَيْهِ بِأَلْوَانِ الْأَشْرِبَةِ ، فَيَشْرَبُ مِنْهَا مَا يَشْتَهِي ، ثُمَّ يَقُولُ الْغِلْمَانُ : ذَرُوهُ وَأَزْوَاجَهُ ( قَالَ أَبُو شِهَابٍ : أَحْسِبُ قَالَ : ) فَيَتَجَافَى عَنْهُ الْغِلْمَانُ ، فَإِذَا الْحَوْرَاءُ قَاعِدَةٌ عَلَى سَرِيرِ مُلْكِهَا ، فَيَرَى مُخَّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَالدَّمِ ، فَيَقُولُ لَهَا : مَنْ أَنْتِ ؟ فَتَقُولُ : أَنَا مِنَ الْحُورِ الْعِينِ اللَّاتِي خُبِّئْنَ لَكَ ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا أَرْبَعِينَ سَنَةً ، لَا يَرْفَعُ بَصَرَهُ عَنْهَا ، ثُمَّ يَرْفَعُ بَصَرَهُ إِلَى الْغُرَفِ فَوْقَهُ ، فَإِذَا أُخْرَى أَجْمَلُ مِنْهَا ، فَتَقُولُ لَهُ : أَمَّا آنَ أَنْ يَكُونَ لَنَا مِنْكَ نَصِيبٌ ؟ فَيَرْتَقِي إِلَيْهَا ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا أَرْبَعِينَ سَنَةً لَا يَصْرِفُ بَصَرَهُ عَنْهَا ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ النَّعِيمُ مِنْهُمْ كُلَّ مَبْلَغٍ ، وَظَنُّوا أَنْ لَا أَفْضَلَ مِنْهُمْ ، تَجَلَّى لَهُمُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، فَنَظَرُوا إِلَى وَجْهِ الرَّحْمَنِ ، فَنَسُوا كُلَّ نَعِيمٍ عَايَنُوهُ حِينَ نَظَرُوا إِلَى وَجْهِ الرَّحْمَنِ ، فَيَقُولُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، هَلِّلُونِي ، فَيَتَجَاوَبُونَ بِالتَّهْلِيلِ ، فَيَقُولُ : يَا دَاوُدُ مَجِّدْنِي كَمَا كُنْتَ تُمَجِّدُنِي فِي الدُّنْيَا ، فَيُمَجِّدُ دَاوُدُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ .
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ : قُلْتُ لِأَبِي شِهَابٍ : حَدِيثُ خَالِدِ بْنِ دِينَارٍ فِي ذِكْرِ الْجَنَّةِ مَرْفُوعٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
ترجمہ

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنت کے ادنیٰ درجے والے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور بتائیے)۔ انہوں نے فرمایا: ”وہ ایسا شخص ہوگا جو جنت کے دروازے سے داخل ہوگا تو اس کے خادم اس کا استقبال کریں گے اور کہیں گے: «مَرْحَبًا بِكَ يَا سَيِّدَنَا، قَدْ آنَ لَكَ أَنْ تَؤُوبَ» ”اے ہمارے سردار! آپ کو خوش آمدید، اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنے اصل ٹھکانے کی طرف لوٹ آئیں“۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر اس کے اعزاز میں چالیس سال کی مسافت تک قیمتی قالین بچھائے جائیں گے، پھر وہ اپنے دائیں اور بائیں جانب نظر دوڑائے گا تو اسے باغات ہی باغات نظر آئیں گے، وہ پوچھے گا: یہ سب کس کے لیے ہے؟ اسے جواب دیا جائے گا: یہ سب تمہارے لیے ہے، یہاں تک کہ جب وہ اپنی منزل پر پہنچے گا تو اس کے سامنے سرخ یاقوت یا سبز زمرد کا ایک عظیم الشان محل بلند کیا جائے گا جس کے ستر حصے ہوں گے، ہر حصے میں ستر بالا خانے ہوں گے اور ہر بالا خانے کے ستر دروازے ہوں گے۔ اسے کہا جائے گا: ”پڑھتے جاؤ اور بلندی پر چڑھتے جاؤ“۔ چنانچہ وہ بلند ہوتا جائے گا یہاں تک کہ جب اپنی سلطنت کے تخت تک پہنچے گا تو اس پر تکیہ لگا کر بیٹھ جائے گا، اس تخت کی وسعت ایک میل ضرب ایک میل ہوگی اور اس کے پاس اس کے علاوہ بھی مزید نعمتیں ہوں گی۔ اس کے پاس سونے کے ستر ہزار پیالے لائے جائیں گے جن میں سے ہر پیالے کا رنگ دوسرے سے جداگانہ ہوگا، وہ اس کے آخری لقمے میں بھی وہی لذت پائے گا جو اس نے پہلے لقمے میں محسوس کی ہوگی۔ پھر اس کے سامنے رنگ برنگے مشروبات پیش کیے جائیں گے اور وہ ان میں سے اپنی من پسند چیزیں نوش کرے گا۔ پھر خادم کہیں گے: اب اسے اور اس کی ازواج کو تنہا چھوڑ دو۔ (ابو شہاب کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا:) پھر خادم اس سے الگ ہو جائیں گے، اچانک وہ دیکھے گا کہ ایک حورِ عین اپنی سلطنت کے تخت پر جلوہ افروز ہے، (وہ ایسی حسن و جمال کی پیکر ہوگی کہ) وہ اس کی پنڈلی کا گودا گوشت اور خون کے پار سے دیکھ رہا ہوگا۔ وہ اس سے پوچھے گا: تم کون ہو؟ وہ کہے گی: میں ان حورِ عین میں سے ہوں جو (خاص) تمہارے لیے چھپا کر رکھی گئی تھیں۔ وہ مسحور ہو کر اس کی طرف چالیس سال تک دیکھتا رہے گا اور اس سے اپنی نظر نہیں ہٹائے گا۔ پھر وہ اپنی نظر اوپر کے بالا خانوں کی طرف اٹھائے گا تو وہاں ایک اور حور دیکھے گا جو پہلی والی سے بھی زیادہ حسین و جمیل ہوگی، وہ اس سے کہے گی: کیا اب وقت نہیں آیا کہ ہمارا بھی آپ کی توجہ میں کچھ حصہ ہو؟ چنانچہ وہ اس کی طرف بلند ہو جائے گا اور چالیس سال تک (حیرت و سرور سے) اسے دیکھتا رہے گا اور اپنی نظر اس سے نہیں پھیرے گا۔ یہاں تک کہ جب جنتی اپنی تمام تر نعمتوں کی انتہا کو پہنچ جائیں گے اور یہ گمان کرنے لگیں گے کہ اب ان سے بڑھ کر کوئی فضیلت والی چیز نہیں رہی، تو رب تبارک و تعالیٰ ان پر اپنی تجلی فرمائے گا، وہ رحمن کے چہرہِ انور کا دیدار کریں گے تو اس دیدار کے سامنے وہ ان تمام نعمتوں کو بھول جائیں گے جن کا انہوں نے پہلے مشاہدہ کیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اے اہل جنت! میری توحید و یگانگت بیان کرو «هَلِّلُونِي»“ تو وہ سب مل کر بلند آواز سے تہلیل (لا الہ الا اللہ) پکاریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اے داؤد! میری ویسی ہی بزرگی و تمجید بیان کرو جیسی تم دنیا میں کیا کرتے تھے“، چنانچہ سیدنا داؤد علیہ السلام اپنے رب عزوجل کی تمجید بیان کریں گے۔“
احمد بن یونس کہتے ہیں کہ میں نے ابوشہاب سے پوچھا: کیا جنت کے تذکرے پر مشتمل خالد بن دینار کی یہ روایت مرفوع ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4619
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 851»