❮
❯
حدیث نمبر: 4613
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَعُمُدًا مِنْ يَاقُوتٍ ، عَلَيْهَا غُرَفٌ مِنْ زَبَرْجَدٍ ، لَهَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ تُضِيءُ كَمَا يُضِيءُ الْكَوْكَبُ الدُّرِّيُّ ، قِيلَ : مَنْ يَسْكُنُهَا يَا نَبِيَّ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُتَحَابُّونَ فِي اللهِ ، وَالْمُتَجَالِسُونَ فِي اللهِ ، وَالْمُتَبَاذِلُونَ فِي اللهِ .
4613 \ 2 - وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ بِهِ .
ضَعِيفٌ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک جنت میں یاقوت کے بنے ہوئے کچھ ایسے بلند و بالا ستون ہیں جن پر زبرجد کے بالا خانے بنے ہوئے ہیں، ان کے دروازے کھلے ہیں اور وہ اس طرح روشن و منور ہوتے ہیں جیسے کوئی چمکدار ستارہ چمکتا ہے۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے نبی! ان میں کون لوگ سکونت اختیار کریں گے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ لوگ جو محض اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، جو اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے کے پاس بیٹھتے ہیں اور جو اللہ ہی کی خاطر ایک دوسرے پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔“
امام احمد بن منیع اور امام عبد بن حمید نے اسے محمد بن ابی حمید کے طریق سے روایت کیا ہے۔
یہ روایت سنداﹰ ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4613
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: ضَعِيفٌ . »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 1432، وأخرجه مسند البزار برقم: 8776، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2759»