المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ الجنة وأهلها باب: جنت اور اس کے باشندوں کے اوصاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 4614
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، قَالَ : قَالَ كَعْبٌ : نَهَرُ النِّيلِ نَهَرُ الْعَسَلِ فِي الْجَنَّةِ ، وَنَهَرُ دِجْلَةَ نَهَرُ اللَّبَنِ فِي الْجَنَّةِ ، وَنَهَرُ الْفُرَاتِ نَهَرُ الْخَمْرِ فِي الْجَنَّةِ ، وَنَهَرُ سَيْحَانَ نَهَرُ الْمَاءِ فِي الْجَنَّةِ ، قَالَ : فَأَطْفَأَ اللهُ تَعَالَى نُورَهُنَّ لِيُصَيِّرَهُنَّ فِي الْجَنَّةِ .ترجمہ
ابوالخیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کعب الاحبار رحمہ اللہ نے فرمایا: ”دریائے نیل جنت میں شہد کی نہر ہے، دریائے دجلہ جنت میں دودھ کی نہر ہے، دریائے فرات جنت میں شرابِ طہور کی نہر ہے، اور دریائے سیحان جنت میں (صاف و شفاف) پانی کی نہر ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ: ”پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا وہ (جنت والا خصوصی) نور اور چمک دمک (دنیا میں) مخفی فرما دی تاکہ ان کو (روزِ قیامت) دوبارہ جنت ہی کا حصہ بنا دیا جائے۔“
اس اثر کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 4614) میں روایت کیا ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں اور یہ کعب الاحبار کا قول (موقوف) ہے۔