❮
❯
حدیث نمبر: 4612
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : جَنَّاتِ عَدْنٍ بُطْنَانُ الْجَنَّةِ ، قُلْتُ : مَا بُطْنَانُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ سُلَيْمَانُ : وَسَطُهَا .
ترجمہ

مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام میں مذکور ﴿جَنَّاتِ عَدْنٍ﴾ [سورة التوبة: 72] کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ”یہ جنت کا بطنان ہے“، میں نے دریافت کیا کہ جنت کے ”بطنان“ سے کیا مراد ہے؟ تو سلیمان نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ”اس سے مراد جنت کا وسط (یعنی مرکزی، درمیانی اور سب سے بہترین حصہ) ہے“۔
اسے امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ روایت سنداً صحیح ہے؛ امام بخاری نے بھی اسے صحیح بخاری میں تعلیقاً ذکر کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4612
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح موقوف »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»