المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ الجنة وأهلها باب: جنت اور اس کے باشندوں کے اوصاف کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَنَّةِ كَيْفَ هِيَ ؟ قَالَ : مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَحْيَا لَا يَمُوتُ ، وَيَنْعَمُ حَتَّى لَا يَبْأَسُ ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَيْفَ بِنَاؤُهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، وَلَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ ، مِلَاطُهَا مِسْكٌ أَذْفَرُ ، وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ ، وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ .سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے جنت کی کیفیت کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ وہ کیسی ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہ (ایسی ابدی زندگی) پائے گا کہ اسے کبھی موت نہیں آئے گی، اور وہ ایسے ناز و نعم میں رہے گا کہ اسے کبھی کوئی تنگی و پریشانی لاحق نہیں ہوگی، نہ اس کے لباس بوسیدہ ہوں گے اور نہ ہی اس کی جوانی کبھی فنا ہوگی۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کی تعمیر کس طرح کی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس کی ایک اینٹ چاندی کی اور ایک اینٹ سونے کی ہے، اس کا گارا (لیپ) تیز خوشبو والی کستوری ہے، اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں، اور اس کی مٹی زعفران ہے۔“
اس حدیث کو امام ابو بکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے، اور اس کے شواہد دیگر کتبِ حدیث (مثلاً مسند احمد و ترمذی) میں موجود ہیں جو اس کے مفہوم کو تقویت فراہم کرتے ہیں۔