المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ الجنة وأهلها باب: جنت اور اس کے باشندوں کے اوصاف کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَارِثِ سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ثِيَابُنَا فِي الْجَنَّةِ نَنْسِجُهَا بِأَيْدِينَا ؟ فَضَحِكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : لِمَ تَضْحَكُونَ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقْتَ يَا أَعْرَابِيُّ ، وَلَكِنَّهَا ثَمَرَاتٌ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا اور دریافت کیا: ”کیا جنت میں ہمارے لباس ایسے ہوں گے کہ جنہیں ہم خود اپنے ہاتھوں سے بنیں گے؟“ اس پر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (دیہاتی کی سادگی پر) ہنس پڑے، تو اس دیہاتی نے کہا: ”تم ایک نادان شخص پر کیوں ہنستے ہو جو ایک جید عالم سے علمی پیاس بجھانے کے لیے سوال کر رہا ہے؟“ تب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے اعرابی! تم نے سچ کہا ہے، (لیکن وہاں لباس بننے کی مشقت نہیں ہوگی) بلکہ وہ تو جنت کے درختوں کے پھلوں سے برآمد ہوں گے۔“
اس حدیث کی سند میں مجالد بن سعید ضعیف ہے، تاہم اس کے شواہد دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنتی لباس درختوں کے پھلوں (شگافوں) سے نکلیں گے۔