المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ الجنة وأهلها باب: جنت اور اس کے باشندوں کے اوصاف کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ أَنُفْضِي إِلَى نِسَائِنَا فِي الْجَنَّةِ كَمَا نُفْضِي إِلَيْهِنَّ فِي الدُّنْيَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُفْضِي الْغَدَاةَ الْوَاحِدَةَ إِلَى مِائَةِ عَذْرَاءَ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (نبی کریم ﷺ سے) عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم جنت میں اپنی بیویوں کے ساتھ اسی طرح خلوت و مباشرت کریں گے جیسا کہ ہم دنیا میں ان کے پاس جاتے ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! یقیناً (جنت میں) ایک شخص ایک ہی صبح کی مدت میں سو کنواریوں تک رسائی حاصل کرے گا۔“
اس روایت کی سند میں زید بن ابی الحواری موجود ہیں جو کہ ائمہ حدیث کے نزدیک ضعیف راوی ہیں، اسی لیے علامہ ہیثمی اور دیگر محققین نے اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے، اگرچہ اس مفہوم کے بعض شواہد دیگر روایات میں ملتے ہیں۔ (تخریج: المعجم الأوسط للطبرانی: 2362، مسند أبی یعلی: 2542)۔