المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ الجنة وأهلها باب: جنت اور اس کے باشندوں کے اوصاف کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ يُجَامِعُ أَهْلُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، دَحَامًا دَحَامًا ، وَلَكِنْ لَا مَنِيَّ وَلَا مَنِيَّةَ .سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا: ”کیا اہل جنت (اپنی ازواج سے) جماع کریں گے؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، وہ انتہائی قوت، شدت اور بھرپور رغبت کے ساتھ ایک دوسرے سے ملیں گے، لیکن وہاں (انزال کی صورت میں) نہ تو منی خارج ہوگی اور نہ ہی (کسی کے لیے) موت ہوگی۔“
امام ابو یعلیٰ موصلی نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس روایت کی سند میں خالد بن ابی مالک نامی راوی ہیں جن پر بعض محدثین نے جرح کی ہے، تاہم جنت میں جماع اور وہاں کی لذتوں کا تذکرہ دیگر صحیح احادیث اور شواہد میں بھی موجود ہے جو اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ جنت کی لذتیں دنیاوی آلائشوں اور تھکن سے پاک ہوں گی۔