المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ الجنة وأهلها باب: جنت اور اس کے باشندوں کے اوصاف کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَيْدٍ ، ثَنَا يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ! ابْكُوا فَإِنْ لَمْ تَبْكُوا فَتَبَاكَوْا ، فَإِنَّ أَهْلَ النَّارِ يَبْكُونَ فِي النَّارِ حَتَّى تَسِيلَ دُمُوعُهُمْ فِي خُدُودِهِمْ ، كَأَنَّهَا جَدَاوِلُ ، حَتَّى تَنْقَطِعَ الدُّمُوعُ ، فَيَسِيلُ - يَعْنِي الدَّمَ - فَيُقَرِّحُ الْعَيْنَ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! (اللہ کے خوف سے) رویا کرو، اور اگر تمہیں رونا نہ آئے تو رونے جیسی صورت ہی بنا لیا کرو (یعنی رونا طاری کرنے کی کوشش کرو)، کیونکہ بلاشبہ جہنمی لوگ دوزخ میں اس قدر زیادہ روئیں گے کہ ان کے آنسو ان کے رخساروں پر اس طرح بہنے لگیں گے گویا کہ وہ چھوٹی نہریں ہوں، یہاں تک کہ جب ان کے آنسو بالکل ختم ہو جائیں گے تو (آنسوؤں کی جگہ) خون بہنا شروع ہو جائے گا جو ان کی آنکھوں کو زخمی اور مجروح کر دے گا۔“
(تخریج و تحکیم): اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے اپنی سنن (کتاب الزہد، باب صفت النار، رقم الحدیث: 4324) میں اور امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند (رقم الحدیث: 4216) میں روایت کیا ہے؛ اس کی سند میں موجود راوی یزید الرقاشی ضعیف ہے، تاہم جہنمیوں کے رونے اور خون کے آنسو بہانے کے حوالے سے دیگر شواہد و آثار موجود ہیں جو اس کے معنی کی تائید کرتے ہیں۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا الثَّوْرِيُّ وَمَعْمَرٌ - يَزِيدُ كُلٌّ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ - عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا حَتَّى إِذَا جَاؤُوهَا وَجَدُوا عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ شَجَرَةً ( قَالَ مَعْمَرٌ : ) يَخْرُجُ مِنْ سَاقِهَا ، ( وَقَالَ الثَّوْرِيُّ : ) مِنْ أَصْلِهَا - عَيْنَانِ ، فَعَمَدُوا إِلَى إِحْدَاهُمَا ، فَكَأَنَّمَا أُمِرُوا بِهَا ( قَالَ مَعْمَرٌ : ) فَاغْتَسَلُوا بِهَا ، ( وَقَالَ الثَّوْرِيُّ : ) فَتَوَضَّؤُوا مِنْهَا فَلَا تَشْعَثُ رُؤُوسُهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ أَبَدًا ، وَلَا تُغَيَّرُ جُلُودُهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ أَبَدًا ، كَأَنَّمَا ادَّهَنُوا بِالدِّهَانِ ، وَجَرَتْ عَلَيْهِمْ نَضْرَةُ النَّعِيمِ ، ثُمَّ عَمَدُوا إِلَى الْأُخْرَى فَشَرِبُوا مِنْهَا ، فَطَهَّرَتْ أَجْوَافَهُمْ ، فَلَا يَبْقَى فِي بُطُونِهِمْ قَذًى وَلَا أَذًى وَلَا سُوءًا إِلَّا خَرَجَ ، وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ : سَلامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ وَتَتَلَقَّاهُمُ الْوِلْدَانُ كَاللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ ، كَاللُّؤْلُؤِ الْمَنْثُورِ ، يُخْبِرُونَهُمْ بِمَا أَعَدَّ اللهُ تَعَالَى لَهُمْ ، يُطِيفُونَ بِهِمْ كَمَا يَطُوفُ وِلْدَانُ أَهْلِ الدُّنْيَا بِالْحَمِيمِ يَجِيءُ مِنَ الْغَيْبَةِ ، يَقُولُونَ : أَبْشِرْ أَعَدَّ اللهُ لَكَ كَذَا وَكَذَا ، وَأَعَدَّ لَكَ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ يَذْهَبُ الْغُلَامُ مِنْهُمْ إِلَى الزَّوْجَةِ مِنْ أَزْوَاجِهِ ، فَيَقُولُ : قَدْ جَاءَ فُلَانٌ بِاسْمِهِ الَّذِي يُدْعَى بِهِ فِي الدُّنْيَا ، فَيَسْتَخِفُّهَا الْفَرَحُ ، حَتَّى تَقُومَ عَلَى أُسْكُفَّةِ بَابِهَا فَتَقُولُ : أَنْتَ رَأَيْتَهُ ؟ قَالَ : فَيَجِيءُ فَيَنْظُرُ إِلَى تَأْسِيسِ بُنْيَانِهِ عَلَى جَنْدَلِ اللُّؤْلُؤِ بَيْنَ أَخْضَرَ وَأَصْفَرَ وَأَحْمَرَ مِنْ كُلِّ لَوْنٍ ، ثُمَّ يَجْلِسُ فَإِذَا زَرَابِيُّ مَبْثُوثَةٌ ، وَنَمَارِقُ مَصْفُوفَةٌ ، وَأَكْوَابٌ مَوْضُوعَةٌ ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، فَيَنْظُرُ إِلَى سَقْفِ بِنَائِهِ ، فَلَوْلَا أَنَّ اللهَ تَعَالَى ( قَالَ مَعْمَرٌ : ) قَدَّرَ ذَلِكَ لَهُ وَقَالَ الثَّوْرِيُّ : سَخَّرَ ذَلِكَ لَهُ ، لَأَلَمَّ أَنْ يُذْهَبَ بِبَصَرِهِ ، إِنَّمَا هُوَ مِثْلُ الْبَرْقِ ، فَيَقُولُ : الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي هَدَانَا الْآيَةَ .
4601 \ 2 - أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّهُ ذَكَرَ النَّارَ فَعَظَّمَ أَمْرَهَا ، ثُمَّ قَالَ : يُسَاقُ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، قَالَ : فَإِذْ جَنْدَلُ اللُّؤْلُؤِ فَوْقَهُ صَرْحٌ أَحْمَرُ وَأَخْضَرُ وَأَصْفَرُ ، قَالَ : ثُمَّ نَظَرُوا إِلَى تِلْكَ النِّعْمَةِ وَاتَّكَؤُوا عَلَيْهَا وَقَالُوا : الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا .
4601 \ 3 - أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَقَالَ : ثُمَّ يَتَّكِئُ عَلَى أَرِيكَةٍ مِنْ أَرَائِكِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : الْحَمْدُ لِلهِ .
4601 \ 4 - قَالَ يَحْيَى : حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّهُ ذَكَرَ النَّارَ ، فَذَكَرَ مِنْهَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَذْكُرَ ، ثُمَّ قَالَ : فِي عَمَدٍ مَمْدُودٍ ، ثُمَّ قَالَ : وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زُهَيْرٍ .
هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ، وَحُكْمُهُ حُكْمُ الْمَرْفُوعِ ، إِذْ لَا مَجَالَ لِلرَّأْيِ فِي مِثْلِ هَذِهِ الْأُمُورِ .
4601 \ 5 - وَقَدْ رَوَاهُ الْبَغَوِيُّ فِي الْجَعْدِيَّاتِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْجَعْدِ ، عَنْ زُهَيْرٍ بِتَمَامِهِ .
4601 \ 6 - وَرَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ عَنِ ابْنِ فَارِسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْحِمَّانِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ بِتَمَامِهِ .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا﴾ [سورة الزمر: 73] ”اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا“ کی تفسیر میں روایت ہے کہ ”جب وہ جنت کے پاس پہنچیں گے تو وہاں جنت کے ایک دروازے پر ایک درخت پائیں گے (راوی معمر کہتے ہیں کہ) اس کے تنے سے، (جبکہ ثوری کہتے ہیں کہ) اس کی جڑ سے دو چشمے جاری ہوں گے، پس وہ ان میں سے ایک کا رخ کریں گے گویا انہیں اسی کا حکم دیا گیا ہو، (معمر کے مطابق) وہ اس سے غسل کریں گے، (جبکہ ثوری کے بقول) وہ اس سے وضو کریں گے، جس کے بعد ان کے بال کبھی پراگندہ نہیں ہوں گے اور نہ ہی ان کی جلدیں کبھی متغیر ہوں گی، گویا انہیں تیل لگا کر نکھار دیا گیا ہو اور ان کے چہروں پر نعمتوں کی تروتازگی چھا جائے گی، پھر وہ دوسرے چشمے کا رخ کریں گے اور اس سے سیراب ہوں گے، تو وہ ان کے باطن کو مکمل پاک کر دے گا، چنانچہ ان کے پیٹوں میں کوئی گندگی، اذیت یا خرابی باقی نہیں رہے گی مگر وہ سب خارج ہو جائے گی، اور جنت کے دروازے پر فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہیں گے: «سَلامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ» ”تم پر سلامتی ہو، تم پاکیزہ ہو گئے، پس اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہو جاؤ“، اور ان کا استقبال وہ غلمان (خادم بچے) کریں گے جو چھپے ہوئے اور بکھرے ہوئے موتیوں کی مانند ہوں گے، وہ انہیں ان نعمتوں کی خبر دیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں، وہ ان کے گرد اس طرح گھومیں گے جیسے دنیا میں لوگ اپنے کسی پیارے کے سفر سے واپس آنے پر اس کے گرد خوشی سے گھومتے ہیں، وہ کہیں گے: ”آپ کو خوشخبری ہو، اللہ نے آپ کے لیے فلاں فلاں اعزازات تیار کر رکھے ہیں“، پھر ان خادموں میں سے ایک لڑکا اس جنتی کی ازواج میں سے کسی کے پاس جائے گا اور جا کر کہے گا کہ ”فلاں شخص (اپنے اس نام کے ساتھ جس سے وہ دنیا میں پکارا جاتا تھا) آ گیا ہے“، تو وہ زوجہ خوشی سے اس قدر نہال ہو جائے گی کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ پر آ کھڑی ہوگی اور (اشتیاق سے) پوچھے گی: ”کیا واقعی تم نے انہیں دیکھا ہے؟“، پھر وہ جنتی اپنے محل میں آ کر اس کی بنیادوں کو دیکھے گا جو سبز، زرد، سرخ اور ہر رنگ کے موتیوں کی چٹانوں پر رکھی گئی ہوں گی، پھر وہ (تخت پر) بیٹھے گا تو وہاں بچھے ہوئے نفیس قالین، برابر لگے ہوئے تکیے اور قرینے سے رکھے ہوئے جام و ساغر پائے گا، پھر وہ اپنا سر اٹھا کر اپنے محل کی چھت کو دیکھے گا تو اگر اللہ تعالیٰ نے (معمر کے بقول) اس کے لیے اس کی ہمت مقدر نہ کی ہوتی (اور ثوری کے بقول) اسے مسخر نہ کیا ہوتا، تو قریب تھا کہ اس کی بینائی اچک لی جاتی کیونکہ وہ چھت بجلی کی چمک کی مانند (روشن) ہوگی، پھر وہ کہے گا: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا﴾ [سورة الأعراف: 43] ”تمام تعریفیں اسی اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی“۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کا حکم مرفوع ہے (یعنی یہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد شمار ہوگا) کیونکہ اس طرح کے غیبی امور میں ذاتی رائے کی گنجائش نہیں ہوتی؛ اسے امام بغوی نے ’الجعدیات‘ میں اور ابونعیم نے ’صفتہ الجنہ‘ میں بھی روایت کیا ہے۔