❮
❯
حدیث نمبر: 4602
وَقَالَ عَبْدٌ ، وَالْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، ثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا مُخَارِقٌ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا مُحَمَّدُ ، أَفِي الْجَنَّةِ فَاكِهَةٌ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، فِيهَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ ، قَالُوا : فَيَأْكُلُونَ كَمَا يَأْكُلُونَ فِي الدُّنْيَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، وَأَضْعَافُ ذَلِكَ ، قَالُوا : فَيَقْضُونَ الْحَوَائِجَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، وَلَكِنْ يَعْرَقُونَ ثُمَّ يَرْشَحُونَ ، فَيُذْهِبُ اللهُ تَعَالَى مَا فِي بُطُونِهِمْ مِنْ أَذًى .
ترجمہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں کے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا: ”اے محمد (ﷺ)! کیا جنت میں میوہ جات ہوں گے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں، اس میں پھل، کھجوریں اور انار ﴿فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ﴾ [سورة الرحمن: 68] ہوں گے۔“ انہوں نے پوچھا: ”تو کیا اہل جنت وہاں اسی طرح کھائیں گے جیسے دنیا میں کھاتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ (کئی گنا) کھائیں گے۔“ انہوں نے سوال کیا: ”تو کیا انہیں وہاں رفعِ حاجت (پیشاب پاخانہ) کی ضرورت پیش آئے گی؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، بلکہ انہیں پسینہ آئے گا اور ان کے جسم سے رطوبت رِسے گی، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں کی تمام تر آلائشوں اور کثافتوں کو دور فرما دے گا۔“
اس حدیث کو امام عبد بن حمید اور حارث بن ابی اسامہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں حصین بن عمر نامی راوی ضعیف اور متروک ہے، تاہم جنتیوں کے پسینے کے ذریعے کھانا ہضم ہونے اور جسمانی کثافتوں سے پاک ہونے کا مضمون دیگر صحیح احادیث (مثلاً صحیح مسلم: 2835) میں بسندِ صحیح ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4602
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 35، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 5687»