المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ النَّارُ وأهلها أعاذنا اللَّهُ مِنْهَا باب: جہنم اور اس کے باشندوں کے اوصاف کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَتْ : رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا ، فَجَعَلَ لَهَا نَفَسَيْنِ : نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ ، فَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَهُ مِنَ الْحَرِّ مِنْ حَرِّهَا ، وَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَهُ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آتشِ جہنم نے اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہوئے عرض کیا: اے میرے رب! میرے ایک حصے نے دوسرے حصے کو کھا لیا ہے (یعنی شدتِ حرارت سے ایک حصہ دوسرے پر غالب آ گیا ہے)، پس اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت عطا فرمائی: ایک سانس سردی کے موسم میں اور ایک سانس گرمی کے موسم میں۔ پس جو تم سخت ترین گرمی محسوس کرتے ہو وہ جہنم کی تپش کی وجہ سے ہے، اور جو تم سخت ترین سردی پاتے ہو وہ جہنم کے زمہریر (انتہائی سرد حصے) کی وجہ سے ہے۔“
مسند ابویعلٰی: 4600، اس حدیث کی سند میں موجود راوی زیاد النمیری اگرچہ ضعیف ہیں، تاہم اس حدیث کی اصل صحیح بخاری (537) اور صحیح مسلم (617) میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جو اس کے معنی و مفہوم کی صحت پر قطعی شاہد ہے۔