❮
❯
حدیث نمبر: 4600
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَتْ : رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا ، فَجَعَلَ لَهَا نَفَسَيْنِ : نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ ، فَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَهُ مِنَ الْحَرِّ مِنْ حَرِّهَا ، وَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَهُ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آتشِ جہنم نے اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہوئے عرض کیا: اے میرے رب! میرے ایک حصے نے دوسرے حصے کو کھا لیا ہے (یعنی شدتِ حرارت سے ایک حصہ دوسرے پر غالب آ گیا ہے)، پس اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت عطا فرمائی: ایک سانس سردی کے موسم میں اور ایک سانس گرمی کے موسم میں۔ پس جو تم سخت ترین گرمی محسوس کرتے ہو وہ جہنم کی تپش کی وجہ سے ہے، اور جو تم سخت ترین سردی پاتے ہو وہ جہنم کے زمہریر (انتہائی سرد حصے) کی وجہ سے ہے۔“
مسند ابویعلٰی: 4600، اس حدیث کی سند میں موجود راوی زیاد النمیری اگرچہ ضعیف ہیں، تاہم اس حدیث کی اصل صحیح بخاری (537) اور صحیح مسلم (617) میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جو اس کے معنی و مفہوم کی صحت پر قطعی شاہد ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4600
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 512، 3087، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 617، وأخرجه سنن الترمذي برقم: 2592، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 4319، وأخرجه مسند أحمد برقم: 7665، 8881، 9639، 10160، وأخرجه موطأ مالك برقم: 28، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 2845، وأخرجه فتح الباري برقم: 510، 512، 3085، 3087، وأخرجه مسند البزار برقم: 280، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 330، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 961، 5233، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 358، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 806، 7802»