المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ النَّارُ وأهلها أعاذنا اللَّهُ مِنْهَا باب: جہنم اور اس کے باشندوں کے اوصاف کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، ثَنَا هَارُونُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : كُنَّا يَوْمًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْنَاهُ كَئِيبًا ، فَقَالَ بَعْضُنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، مَا لَنَا نَرَاكَ كَئِيبًا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَمِعْتُ هَدَّةً لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهَا ، فَأَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : هَذَا صَخْرٌ قُذِفَ بِهِ فِي النَّارِ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا ، فَالْيَوْمَ اسْتَقَرَّ قَرَارُهُ .
قَالَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِ مُحَمَّدٍ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا رَأَيْنَاهُ ضَاحِكًا بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ حَتَّى وَارَيْنَاهُ التُّرَابَ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے، ہم نے دیکھا کہ آپ ﷺ نہایت غمزدہ اور فکر مند دکھائی دے رہے ہیں، تو ہم میں سے کسی نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، کیا معاملہ ہے کہ ہم آپ کو اس قدر رنجیدہ دیکھ رہے ہیں؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے ایک ایسے زوردار دھماکے کی آواز سنی ہے کہ اس جیسی ہولناک آواز میں نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی، پھر میرے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے، میں نے ان سے اس آواز کی بابت سوال کیا، تو انہوں نے بتایا: یہ وہ چٹان کا ٹکڑا تھا جسے ستر برس پہلے جہنم میں پھینکا گیا تھا، اور آج وہ اس کی اتھاہ گہرائی میں اپنی آخری منزل تک پہنچ کر ساکن ہوا ہے۔“
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ حلفاً بیان کرتے ہیں کہ: ”اس ذاتِ اقدس کی قسم جس نے ہمارے نبی محمد ﷺ کی روح مبارک قبض کی! ہم نے اس دن کے بعد سے آپ ﷺ کو کبھی (بھرپور طریقے سے) ہنستے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم نے آپ ﷺ کو مٹی کے سپرد کر دیا۔“