المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ النَّارُ وأهلها أعاذنا اللَّهُ مِنْهَا باب: جہنم اور اس کے باشندوں کے اوصاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 4598
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَنَّ حَجَرًا كَسَبْعِ خَلِفَاتٍ بِشُحُومِهِنَّ وَأَوْلَادِهِنَّ أُلْقِيَ فِي جَهَنَّمَ لَهَوَى سَبْعِينَ عَامًا ، لَا يَبْلُغُ قَعْرَهَا .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر ایسا پتھر جو اپنی جسامت میں سات ایسی حاملہ اونٹنیوں کے برابر ہو جو اپنی چربی اور پیٹ میں موجود بچوں سمیت (انتہائی وزنی اور ضخیم) ہوں، جہنم میں پھینکا جائے تو وہ ستر سال تک اس میں مسلسل گرتا رہے گا، لیکن پھر بھی اس کی گہرائی (تہہ) تک نہیں پہنچ پائے گا۔“
اس روایت کی سند میں یزید الرقاشی راوی ضعیف ہے، تاہم جہنم کی گہرائی کے حوالے سے ستر برس تک گرنے کا مفہوم دیگر صحیح احادیث سے بھی ثابت ہے۔