المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ النَّارُ وأهلها أعاذنا اللَّهُ مِنْهَا باب: جہنم اور اس کے باشندوں کے اوصاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 4597
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا دَوِيًّا ، فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا ؟ قَالَ : أُلْقِيَ حَجَرٌ مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا ، الْآنَ اسْتَقَرَّ فِي قَعْرِهَا .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ایک نہایت زوردار اور ہیبت ناک دھماکے کی آواز سنی تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے جبریل! یہ کیسی آواز ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”یہ وہ پتھر ہے جسے ستر سال قبل جہنم کے کنارے سے نیچے پھینکا گیا تھا، وہ اب جا کر اس کی اتھاہ گہرائی میں پہنچا ہے (اور اس کے گرنے کی یہ آواز ہے)۔“
اس حدیث کی سند میں یزید الرقاشی ضعیف راوی ہے، تاہم اس واقعے کی اصل صحیح مسلم (2844) میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ثابت ہے، جس میں صراحت ہے کہ وہ پتھر جہنم کی گہرائی میں جا گرا ہے۔